29 اپریل 2012 - 19:30

کئی علماء اور بڑی تعداد میں لوگ سرکاری لاٹھیاں کھاتے ہوئے کانفرنس کے پنڈال میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ شہر کے داخلی راستوں پر موجود لوگ علامہ سید ساجد علی نقوی کے انتظار میں تھے، جب علامہ ساجد نقوی شہر کی سرحد پر پہنچے تو انہیں بھی خیرپور میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ تاہم علامہ سید ساجد علی نقوی پہلے سے شہر کے داخلی راستوں پر موجود لوگوں کے ہمراہ خیرپور میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے اور کانفرنس کے پنڈال میں پہنچ گئے۔

ابنا: خیرپور میں لبیک یاحسین ع کانفرنس کی تیاریاں شروع ہوتے ہی کالعدم تنظیم کی فرقہ پرستی اور تنگ نظری حسب معمول عیاں ہونا شروع ہو گئی تھی، نواسہ رسول ص کے نام سے منسوب اس کانفرنس کا انعقاد جہاں تکفیری گروہ کی نیندیں اڑائے ہوئے تھا وہیں اس شعر کی طرح لبیک یاحسین ع کے نعرے نے اپنی طاقت اور اہمیت کا ازخود احساس دلا دیا۔

ماضی کی خامیوں کی تلافی ہے یاحسین ع 

گربھول چک ہو تو معافی ہےیاحسین عہرلا دواعلاج میں شافی ہے یاحسین ع

دشمن کی موت کیلئے کافی ہےیاحسین ع

خیرپور میں بھی اسی طرح ہوا، کہ لبیک یاحسین ع کی آواز کانوں میں پڑتے ہی جہاں شیعہ، سنی مسلمانوں کے دل نور سے منور ہوئے، وہیں دشمن نے اپنی اصلیت ظاہر کرتے ہوئے کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈوں سے کام لینا شروع کر دیا، کالعدم تنظیم کے رہنمائوں نے پہلے 29 اپریل کو (جس روز لبیک یاحسین ع کانفرنس کا انعقاد ہونا تھا) ہی اپنی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا اور پھر شہر کی پرامن فضاء کو خراب کرتے ہوئے کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے فائرنگ کر کے 13 شیعہ نوجوانوں کو زخمی کر دیا، اور بعد ازاں ان کی املاک کو بھی نذر آتش کر دیا، پولیس نے شرپسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے الٹا اہل تشیع کے گھروں پر چھاپے مارنے شروع کر دیئے، حتیٰ کہ علماء کرام کے گھروں کی چار دیواری کا تقدس بھی پامال کیا گیا، اس دوران 65 سے زائد اہل تشیع افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

تاہم دوسری جانب علامہ سید ساجد علی نقوی نے اعلان کیا کہ کانفرنس اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق ہی منعقد ہو گی، کالعدم تنظیم کے بعد انتظامیہ نے بھی لبیک یاحسین ع کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں شروع کر تے ہوئے شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دی، 28 اپریل کی رات سے ہی شہر کی انتظامیہ نے کانفرنس کے خلاف اقدامات کا آغاز کر دیا تھا اور شہر کے داخلی راستوں کو سیل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ تاکہ کانفرنس میں شہر سے باہر سے لوگ شرکت نہ کر سکیں، تاہم 29 اپریل کا سورج خیرپور کے تشیع کے عزم اور ہمت کو دیکھتے ہوئے کامیابی کی نوید لیکر ہی طلوع ہوا۔ کانفرنس میں شرکت کیلئے آنے والوں کو شہر کے داخلی راستوں پر ہی روک لیا گیا اور پرامن دھرنا دینے والوں پر پولیس نے وحشیانہ لاٹھی چارج شروع کر دیا، شیلنگ کے علاوہ ربڑ کی گولیوں کا بھی بے دریغ استعمال کیا گیا، تاہم امن کا سبق دینے والوں نے اس موقع پر بھی قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا۔

اس دوران کئی علماء اور بڑی تعداد میں لوگ سرکاری لاٹھیاں کھاتے ہوئے کانفرنس کے پنڈال میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ شہر کے داخلی راستوں پر موجود لوگ علامہ سید ساجد علی نقوی کے انتظار میں تھے، دوسری جانب پولیس نے کانفرنس میں شرکت کے لئے آنے والے ایم ڈبلیو ایم خیرپور کے سیکرٹری جنرل مولانا نشان حیدر اور ان کے پندرہ سے زائد ساتھیوں سمیت 70 افراد کو گرفتار کر لیا، اس دوران رینجرز اور پولیس اہلکاروں نے مسجد حیدری (جہاں کانفرنس کا انعقاد ہونا تھا) کو چاروں طرف سے گھیرے میں لئے رکھا اور کانفرنس میں شرکت سے لوگوں روکنے کی کوشش کرتے رہے، سندھ کے مختلف علاقوں سے کانفرنس میں شرکت کے لئے آنے والی 250 گاڑیوں کو انتظامیہ نے شہر میں داخل ہونے سے قبل ہی روک لیا، اور جب علامہ ساجد نقوی شہر کی سرحد پر پہنچے تو انہیں بھی خیرپور میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ تاہم علامہ سید ساجد علی نقوی پہلے سے داخلی راستوں پر موجود لوگوں کے ہمراہ شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے اور کانفرنس کے پنڈال میں پہنچ گئے۔

جب لاٹھیاں کھانے والے باہمت تشیع دفعہ 144 کو پیروں تلے روندتے ہوئے اپنے..............علامہ سید ساجد علی نقوی .............کے ہمراہ پنڈال پہنچے تو لبیک یاحسین ع کے نعروں نے ان میں نئی جان ڈال دی، اور دشمن کی موت کیلئے ایک بار پھر یا لبیک یاحسین ع کا نعرہ ہی کام آگیا، جب علامہ ساجد نقوی حیدری مسجد پہنچے تو شرکاء نے ان کا بھرپور استقبال کیا، اس دوران کانفرنس کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا، کانفرنس سے شیعہ علماء کونسل سندھ کے سینئر نائب صدر علامہ جعفر سبحانی، جنرل سیکرٹری علامہ سید ناظر عباس تقوی، مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ مختار امامی، علامہ محسن مہدوی، علامہ ریاض حسین الحسینی، علامہ ارشاد شاہ، علامہ اسد اقبال نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر کانفرنس کے شرکاء کا جوش و خروش اور اتحاد دیدنی تھا۔

کانفرنس کے آخر میں علامہ سید ساجد علی نقوی کو خطاب کی دعوت دی گئی، علامہ ساجد نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم اتحاد و وحدت کیلئے کوشاں ہیں لیکن ہمارے اس ذمہ دارانہ طرز عمل کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے، اسلام آباد اور اب خیرپور کے اجتماع نے ایک نئی بیداری ثابت کر دی، ملت تیار رہے، تحفظ تشیع کیلئے اب ایک ایسا اجتماع ہو گا کہ پورا پاکستان جام ہو جائے گا، اگر ہم اپنی قوت کو آزمائینگے تو پاکستان کے آسمان اور زمین کا رنگ ہی کچھ اور ہو گا، حکومت ہوش کے ناخن لے، ہم محب وطن، امن پسند اور ذمہ دار لوگ ہیں، ملک کی سالمیت اور داخلی وحدت و استحکام ہمیں عزیز ہے، اسی لئے تو اب تک اتنی قربانیاں دے کر بھی اتحاد و وحدت کے لئے کوشاں ہیں، مگر ہمارے اس ذمہ دارانہ طرز عمل کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم پاکیزہ عقائد و نظریات کے تحفظ، اصولوں کے دفاع اور اپنے آئینی و قانونی اور شہری حقوق سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہا کہ خیرپور میں شرپسندوں اور دہشتگردوں کو لگام دینا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے نہ کہ معصوم اور امن پسند لوگوں کو گرفتار اور ہراساں کرنا۔ انکا کہنا تھا کہ گذشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں شیعہ علمائے کرام نے ملک کو درپیش مسائل و مشکلات پر تبادلہ خیال کیا اور ریاست کے ذمہ داروں کو ملک کے داخلی امن و سلامتی کی جانب ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کی جانب متوجہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ علماء کانفرنس کے بعد پارلیمنٹ ہائوس تک ہزاروں علماء کی احتجاجی ریلی کے دوران ایک پتہ تک نہیں ہلا اور انتہائی باوقار اور منظم انداز میں آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج کیا گیا، جو معاشرے کے محب وطن اور ذمہ دار طبقے کی واضح علامت ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ یہاں خیرپور میں پہلے سے طے شدہ اس کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کے لئے شرپسندوں نے منظم طریقے سے غیر قانونی سرگرمیوں اور لاقانونیت کا سہارا لیا، مگر صد افسوس کہ انہیں قانون کی گرفت میں لینے کی بجائے پولیس اور انتظامیہ نے الٹا امن پسندوں کو ہراساں اور گرفتار کرنا شروع کر دیا اور مختلف مقامات پر کانفرنس میں شرکت کے لئے آنے والے قافلوں کو روک کر انکی شہری آزادیوں پر قدغن لگانے کی کوشش کی گئی، جو انتہائی قابل مذمت ہے۔

علامہ ساجد نقوی کی جانب سے مصائب اہل بیت ع بیان کرنے کے بعد لبیک یاحسین ع کانفرنس کا باقاعدہ اختتام ہو گیا۔ جس کے بعد تمام گرفتار اہل تشیع نوجوانوں کو بھی رہا کر دیا گیا۔

.......

/169